ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی حکومت میں اچھے دن صرف امیروں کے آئے: سدرامیا

مودی حکومت میں اچھے دن صرف امیروں کے آئے: سدرامیا

Sun, 24 Sep 2017 14:22:42    S.O. News Service

بنگلورو،23؍ستمبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مرکز میں برسر اقتدار مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہاکہ مودی نے ملک کو اچھے دن کے خواب دکھا کر اقتدار پر قبضہ کیا، لیکن ساڑھے تین سال گزرجانے کے باوجود بھی ملک کا ایک دن بھی اچھا نہیں گزرا ۔ آج شہر کے مہادیو پورہ میں ’’گھر گھرکانگریس‘‘ مہم کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مودی جب سے اقتدار پر آئے ہیں اچھے دن صرف سرمایہ داروں کے آئے ہیں اور غریبوں کیلئے برے دن مقدر بن چکے ہیں۔ مودی حکومت کی طرف سے کی گئی نوٹ بندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس نوٹ بندی کے ذریعہ کالے دھن کو ختم کرنے کا وعدہ کیاگیا ، لیکن وزیر اعظم نے کالے دھن کی بجائے ملک کے دھن کو ہی ختم کردیا۔ جب کالا دھن لانے میں مرکزی حکومت کی ناکامی کھل کر سامنے آنے لگی تو یہ دعویٰ کرنے لگے کہ نوٹ بندی کے ذریعہ وہ کیش لیس معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے، لیکن حال ہی میں ریزرو بینک کی طرف سے یہ دعویٰ کہ اس نے ہزار اور پانچ سو روپیوں کے جتنے نوٹ چھاپے تھے اس میں سے 99 فیصد بینک لوٹ چکے ہیں ، اس سے مودی کے جھوٹ کی قلعی کھل گئی ۔ سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی طرف سے سدرامیا کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے کے دعوے پر طنز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یڈیورپا کو چیلنج کیا کہ ان کے خلاف جو بھی الزام ہے ثبوت کے ساتھ منظر عام پر لائیں، لیکن یڈیورپا کی خاموشی سے وہ یہ محسوس کررہے ہیں کہ یڈیورپا میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اپنی جھوٹی چارج شیٹ منظر عام پر لاسکیں۔ کچھ اور آگے بڑھتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ یڈیورپا سمیت ریاست کے کسی بھی بی جے پی لیڈر میں اتنا میٹر نہیں ہے کہ سچائی بیان کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ منگلور چلو بائیک ریلی کے ذریعہ بی جے پی ریاست کے امن وامان کو تار تار کرنا چاہتی تھی ، لیکن ریاستی حکومت نے کافی دور اندیشی سے ان کی ریلی کو ناکام بنادیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کیلئے یڈیورپا ریاستی حکومت پر مسلسل زور دیتے رہے ، ریاستی حکومت نے ان کے مطالبے کے ساتھ پارٹی کے سبھی اراکین اسمبلی کی رائے پر کوآپریٹیو بینکوں سے لئے گئے کسانوں کے قرضوں کو معاف کردئے۔ یڈیورپا اب یہ جرأت دکھائیں کہ وزیراعظم مودی کو اس بات پر راضی کرائیں کہ کسانوں نے قومی بینکوں سے جو قرضہ جات حاصل کئے ہیں انہیں بھی معاف کردیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس پروگرام کے بعد اس حلقہ میں آنے والے رام گنڈنا ہلی کے ایک مکان پر پہنچ کر وہاں پر کتابچوں کی تقسیم کا سلسلہ شروع کیا اور اس محلے کے عوام سے سدرامیا نے اپیل کی کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں وہ کانگریس کا ساتھ دیں۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری وینو گوپال ، کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور ،کارگذار صدور دنیش گنڈو راؤ ، ایس آر پاٹل، ریاستی وزراء اور پارٹی کے سبھی قائدین اس موقع پر موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر پارٹی کے سبھی کارکنوں کو آواز دی کہ بی جے پی کی طرف سے ریاست بھر میں حکومت کے خلاف جو جھوٹا پروپگنڈہ کیا جارہاہے اس کا جواب دیتے ہوئے پارٹی کو اقتدار پر برقرار رکھنے کیلئے سبھی کانگریسی متحد ہوجائیں ۔ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں کہ بی جے پی کا پروپگنڈہ صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے ساڑھے چار سال کے دوران ریاستی حکومت نے عوام سے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے تھے ان کو پوری دیانتداری سے پورا کیا ہے۔پارٹی کارکن ہر پولنگ بوتھ سطح پر کام کرکے عوام کے سامنے یہ حقیقت پہنچائیں اور ان سے پارٹی کیلئے ایک اور موقع حاصل کریں۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی انا بھاگیہ ، کشیرا بھاگیہ اور دیگر فلاحی اسکیموں کے ذریعہ عوام کو جو فائدے پہنچ رہے ہیں ان سے واقف کرایا جائے۔وزیر اعظم مودی کی طرف سے وقتا فوقتاً کی جانے والی من کی بات پر طنز کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ہم لوگ من کی بات نہیں کام کی بات کرتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ سے تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر کام کیا ہے۔وزیراعظم مودی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دے کر اقتدار حاصل کیا ، لیکن یہ نعرہ صرف نعرہ بن کر رہ گیا۔ اپنے اقرباء کی ترقی کو چھوڑ کر کسی کی ترقی کیلئے کام نہیں کیا۔آج ملک کا قلی ،مزدور، کسان اور کمزور طبقات اپنی پریشانیوں میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں جبکہ امیر طبقہ مودی کے مہربانیوں سے اپنے کالے دھن کو اور بھی بڑھانے میں لگا ہوا ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں کانگریس کارکنوں نے وزیراعلیٰ کے ہمراہ اس مہم میں حصہ لیا۔


Share: